ہوم ‹ سولر

سولر سسٹم سائز اور لاگت کی واپسی کیلکولیٹر

اپنے ماہانہ یونٹس درج کریں اور معلوم کریں کہ آپ کو کتنے سائز کا سولر سسٹم چاہیے، اس پر کتنی لاگت آئے گی، اور کتنے سال میں یہ لاگت واپس آ جائے گی۔ اپ ڈیٹ: 12 اکتوبر، 2026

یونٹ
پچھلے 12 بلوں کی اوسط سب سے بہتر ہے۔
روپے
بل کی کل رقم ÷ یونٹس۔
روپے
گرڈ کو بھیجے گئے یونٹس پر ملنے والی رقم۔
روپے
%
سولر بجلی کا وہ حصہ جو آپ براہِ راست استعمال کرتے ہیں۔

تجویز کردہ سولر سسٹم

5 کلو واٹ

585 واٹ کے تقریباً 9 پینل · ہر ماہ تقریباً 600 یونٹس بجلی

سسٹم کی اندازاً لاگت550,000 روپے
ماہانہ بچت20,640 روپے
لاگت کی واپسی کی مدت2.2 سال
گھر میں براہِ راست استعمال ہونے والے یونٹس360
گرڈ کو بھیجے گئے یونٹس240
25 سال میں خالص فائدہ5,642,000 روپے

سولر انسٹالرز سے مفت کوٹیشن حاصل کریں

ہمیں بتائیں کہ آپ کہاں رہتے ہیں، ہم آپ کا رابطہ آپ کے قریب 3 تک قابلِ اعتماد سولر انسٹالرز سے کرا دیں گے۔ یہ سروس مفت ہے اور خریدنے کی کوئی پابندی نہیں۔

سائز اور لاگت کی واپسی کا حساب کیسے ہوتا ہے

  1. سسٹم کا سائز = ماہانہ یونٹس ÷ 120 یونٹس فی کلو واٹ، اگلے 0.5 کلو واٹ تک بڑھا کر۔
  2. ماہانہ بچت = گھر میں استعمال ہونے والے یونٹس × آپ کا فی یونٹ ریٹ + گرڈ کو بھیجے گئے یونٹس × بائی بیک ریٹ۔
  3. لاگت کی واپسی کی مدت = سسٹم کی لاگت ÷ سالانہ بچت۔

لاگت کی واپسی کا یہ حساب اس مفروضے پر ہے کہ بجلی کی موجودہ قیمت برقرار رہے گی۔ پاکستان میں بجلی کی قیمتیں زیادہ تر بڑھتی ہی رہی ہیں، جس سے یہ مدت مزید کم ہو جائے گی۔ پینلز کی پیداوار ہر سال تقریباً 0.5 فیصد کم ہوتی ہے، اور انورٹر عموماً 10 سے 12 سال میں ایک بار بدلنا پڑتا ہے۔

ماہانہ استعمال کے لحاظ سے عام سسٹم

ماہانہ یونٹسسسٹماندازاً لاگتماہانہ بچتلاگت کی واپسی
3002.5 کلو واٹ275,000 روپے10,320 روپے2.2 سال
5004.5 کلو واٹ495,000 روپے17,640 روپے2.3 سال
8007 کلو واٹ770,000 روپے27,960 روپے2.3 سال
1,20010 کلو واٹ1,100,000 روپے41,280 روپے2.2 سال
1,80015 کلو واٹ1,650,000 روپے61,920 روپے2.2 سال

یہ اندازے 50 روپے فی یونٹ، 110,000 روپے فی کلو واٹ، 11 روپے بائی بیک ریٹ اور 60 فیصد گھر میں استعمال کی بنیاد پر ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

پاکستان میں 1 کلو واٹ سولر کتنے یونٹس بناتا ہے؟

اوسطاً تقریباً 120 یونٹس ماہانہ؛ گرمیوں میں زیادہ، اور سردیوں اور اسموگ یا ابر آلود ہفتوں میں کم۔ لاہور اور کراچی میں روزانہ تقریباً 5 پیک سن آورز (بھرپور دھوپ کے گھنٹے) ملتے ہیں۔

کیا نیٹ میٹرنگ اب بھی دستیاب ہے؟

نئے کنکشنز کے لیے نیپرا نے پروزیومر ریگولیشنز 2026 کے تحت نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ نافذ کر دی ہے۔ آپ جو یونٹس گرڈ کو بھیجتے ہیں وہ اس قیمت سے کہیں کم ریٹ (تقریباً 11 روپے فی یونٹ) پر خریدے جاتے ہیں جو آپ گرڈ سے لیے گئے یونٹس کے لیے ادا کرتے ہیں۔ جن صارفین کا نیٹ میٹرنگ معاہدہ پہلے سے موجود ہے، ان کے لیے معاہدہ ختم ہونے تک پرانی شرائط برقرار رہیں گی۔ موجودہ بائی بیک ریٹ اپنی بجلی کمپنی (DISCO) سے تصدیق کر لیں۔

سولر بجلی گھر میں استعمال کرنا اسے گرڈ کو بھیجنے سے زیادہ فائدہ مند کیوں ہے؟

گھر میں براہِ راست استعمال ہونے والا ہر یونٹ گرڈ کے ایک یونٹ کی پوری قیمت بچاتا ہے (ٹیکسوں سمیت اکثر 45 سے 60 روپے)، جبکہ گرڈ کو بھیجے گئے یونٹ پر صرف بائی بیک ریٹ ملتا ہے۔ اے سی، پمپ اور واشنگ مشین دن کے وقت چلانے سے بچت بڑھ جاتی ہے۔

سسٹم کی لاگت میں کیا کچھ شامل ہوتا ہے؟

فی کلو واٹ لاگت میں پینل، انورٹر، اسٹرکچر، وائرنگ، حفاظتی آلات اور تنصیب شامل ہونی چاہیے۔ بیٹریاں اس کے علاوہ ہیں۔ قیمتیں اکثر بدلتی رہتی ہیں، اس لیے مقامی انسٹالرز سے لی گئی کوٹیشن درج کریں۔

آن گرڈ، ہائبرڈ یا آف گرڈ؟

آن گرڈ سسٹم سب سے سستا ہے اور اس کی لاگت سب سے جلد واپس آتی ہے، لیکن لوڈ شیڈنگ کے دوران یہ بند ہو جاتا ہے۔ ہائبرڈ سسٹم میں بیک اپ کے لیے بیٹریاں ہوتی ہیں، جس سے لاگت بڑھ جاتی ہے۔ آف گرڈ سسٹم ان جگہوں کے لیے موزوں ہے جہاں گرڈ کا قابلِ بھروسا کنکشن نہیں۔

متعلقہ کیلکولیٹر

ذرائع

یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔