تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس سلیب، 2026-27
| سالانہ قابلِ ٹیکس تنخواہ | ٹیکس |
|---|---|
| 0 روپے سے 600,000 روپے تک | کوئی ٹیکس نہیں |
| 600,001 روپے سے 1,200,000 روپے تک | 600,000 روپے سے زائد رقم کا 1% |
| 1,200,001 روپے سے 2,200,000 روپے تک | 6,000 روپے + 1,200,000 روپے سے زائد رقم کا 11% |
| 2,200,001 روپے سے 3,200,000 روپے تک | 116,000 روپے + 2,200,000 روپے سے زائد رقم کا 20% |
| 3,200,001 روپے سے 4,100,000 روپے تک | 316,000 روپے + 3,200,000 روپے سے زائد رقم کا 25% |
| 4,100,001 روپے سے 5,600,000 روپے تک | 541,000 روپے + 4,100,000 روپے سے زائد رقم کا 29% |
| 5,600,001 روپے سے 7,000,000 روپے تک | 976,000 روپے + 5,600,000 روپے سے زائد رقم کا 32% |
| 7,000,000 روپے سے زائد | 1,424,000 روپے + 7,000,000 روپے سے زائد رقم کا 35% |
2025-26 کے مقابلے میں 23 فیصد کا سلیب 20 فیصد، اور 30 فیصد کا سلیب 25 فیصد ہو گیا ہے۔ پرانا 35 فیصد سلیب اب 29 اور 32 فیصد کے دو سلیبوں میں تقسیم ہے، اور 35 فیصد کی شرح اب 70 لاکھ روپے سے شروع ہوتی ہے۔ ایک کروڑ روپے سے زائد تنخواہوں پر 9 فیصد سرچارج ختم کر دیا گیا ہے۔
عام تنخواہوں پر ٹیکس
| ماہانہ تنخواہ | ماہانہ ٹیکس 2026-27 | ماہانہ ٹیکس 2025-26 | ہاتھ میں آنے والی تنخواہ |
|---|---|---|---|
| 50,000 روپے | 0 روپے | 0 روپے | 50,000 روپے |
| 100,000 روپے | 500 روپے | 500 روپے | 99,500 روپے |
| 150,000 روپے | 6,000 روپے | 6,000 روپے | 144,000 روپے |
| 250,000 روپے | 23,000 روپے | 25,000 روپے | 227,000 روپے |
| 400,000 روپے | 62,000 روپے | 71,750 روپے | 338,000 روپے |
| 600,000 روپے | 124,500 روپے | 141,750 روپے | 475,500 روپے |
تنخواہ پر ٹیکس کا حساب کیسے ہوتا ہے
- اپنی سالانہ قابلِ ٹیکس تنخواہ نکالیں (ماہانہ تنخواہ × 12)۔
- دیکھیں کہ آپ کی سالانہ تنخواہ کس سلیب میں آتی ہے۔
- ٹیکس = اس سلیب کی مقررہ رقم + سلیب کی شرح × سلیب کی ابتدائی حد سے زائد رقم۔
- ماہانہ کٹوتی کے لیے اسے 12 پر تقسیم کریں، جو آپ کا ادارہ ہر ماہ کاٹتا ہے۔
مثال: 2 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ سالانہ 30 لاکھ روپے بنتی ہے، جو 20 فیصد کے سلیب میں آتی ہے: 116,000 + 20% × (3,000,000 − 2,200,000) = 276,000 روپے سالانہ، یعنی 23,000 روپے ماہانہ۔ 2025-26 میں اسی تنخواہ پر 25,000 روپے ماہانہ ٹیکس تھا۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
2026-27 میں ٹیکس سے مستثنیٰ تنخواہ کی حد کیا ہے؟
2026-27 میں 6 لاکھ روپے سالانہ (50 ہزار روپے ماہانہ) تک کی تنخواہ پر کوئی ٹیکس نہیں۔ یہ حد 2025-26 جتنی ہی ہے۔
1 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر کتنا ٹیکس بنتا ہے؟
1 لاکھ روپے ماہانہ کا مطلب 12 لاکھ روپے سالانہ ہے۔ 6 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 1 فیصد ٹیکس لگتا ہے، یعنی 6,000 روپے سالانہ یا 500 روپے ماہانہ۔
کیا زیادہ تنخواہوں پر 9 فیصد سرچارج ختم ہو گیا ہے؟
جی ہاں۔ ایف بی آر کے سرکلر نمبر 02 برائے 2026-27 کے مطابق فنانس ایکٹ 2026 نے ایک کروڑ روپے سے زائد قابلِ ٹیکس آمدنی والے تنخواہ دار افراد پر 9 فیصد سرچارج ختم کر دیا ہے۔ دیگر افراد پر 10 فیصد سرچارج بدستور لاگو ہے۔ 2025-26 کے موازنے میں 9 فیصد سرچارج شامل ہے۔
کیا یہ حساب کل تنخواہ پر ہے یا قابلِ ٹیکس تنخواہ پر؟
اپنی قابلِ ٹیکس تنخواہ درج کریں۔ زیادہ تر الاؤنسز پر ٹیکس لگتا ہے، لیکن کچھ مدیں، جیسے بعض میڈیکل الاؤنس یا اخراجات کی واپسی، مستثنیٰ ہو سکتی ہیں۔ آپ کی پے سلپ یا ادارہ قابلِ ٹیکس رقم بتا سکتا ہے۔
کیا اس میں صوبائی ٹیکس یا زکوٰۃ کی کٹوتی شامل ہے؟
نہیں۔ یہ صرف تنخواہ پر وفاقی انکم ٹیکس کا حساب ہے۔ پروفیشنل ٹیکس، ای او بی آئی اور پراویڈنٹ فنڈ کی کٹوتیاں الگ ہیں۔
متعلقہ کیلکولیٹر
- زکوٰۃ کیلکولیٹرسونے، چاندی، نقدی، بینک بچت اور کاروباری مال پر زکوٰۃ کا حساب لگائیں، آج کے چاندی یا سونے کے نرخ کے مطابق نصاب کی جانچ کے ساتھ۔
- کار لون کیلکولیٹرقیمت، ڈاؤن پیمنٹ، شرح اور مدت سے گاڑی کے قرض کی ماہانہ قسط، کل مارک اپ اور مکمل لاگت معلوم کریں۔
- کمیٹی (بی سی) کیلکولیٹرکمیٹی کی منصوبہ بندی کریں: کل رقم، ماہ بہ ماہ شیڈول، اور آپ کی باری کا آپ کے لیے کیا مطلب ہے، کسی بھی تعداد کے ممبران کے لیے۔
- LESCO بل کیلکولیٹراستعمال شدہ یونٹس سے اپنے LESCO بجلی کے بل کا اندازہ لگائیں: 2026 کے نیپرا سلیب ریٹس، فکسڈ چارجز، فیول ایڈجسٹمنٹ اور جی ایس ٹی کے ساتھ۔
- سرکاری ملازمت عمر کیلکولیٹرآخری تاریخ پر اپنی درست عمر معلوم کریں اور دیکھیں کہ کیا آپ عمر میں رعایت سمیت سرکاری ملازمت کی عمر کی حد پر پورا اترتے ہیں۔
ذرائع
- ایف بی آر سرکلر نمبر 02 برائے 2026-27: فنانس ایکٹ 2026 کے تحت تنخواہ دار افراد کی شرحیں اور 9 فیصد سرچارج کا خاتمہ (پیرا 7 اور 8)
- ایف بی آر سرکلر نمبر 01 برائے 2025-26: فنانس ایکٹ 2025 کی شرحیں (پیرا 5)، موازنے کے لیے
- انکم ٹیکس آرڈیننس 2001، پہلا شیڈول، حصہ اول، ڈویژن اول، شق (2)
یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔