زکوٰۃ کا حساب کیسے ہوتا ہے
- تمام قابلِ زکوٰۃ اثاثے جمع کریں: سونا، چاندی، نقدی، بینک بیلنس، کاروباری مال اور وہ رقم جو آپ کو واپس ملنے کی توقع ہے۔
- وہ قرض اور بل منہا کریں جو اس وقت واجب الادا ہیں۔
- اگر باقی رقم نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو زکوٰۃ واجب ہے۔
- زکوٰۃ = خالص رقم کا 2.5% (چالیسواں حصہ)۔
مثال: بینک میں 6 لاکھ روپے، 1 لاکھ 50 ہزار روپے نقد اور 2 تولہ سونا 4 لاکھ روپے فی تولہ کے حساب سے (8 لاکھ روپے)، کل 15 لاکھ 50 ہزار روپے بنتے ہیں۔ 1 لاکھ روپے کا قرض منہا کرنے کے بعد خالص دولت 14 لاکھ 50 ہزار روپے ہے۔ یہ چاندی کے نصاب سے زیادہ ہے، اس لیے زکوٰۃ 2.5% × 1,450,000 = 36,250 روپے بنتی ہے۔
کن چیزوں پر زکوٰۃ ہے اور کن پر نہیں
| زکوٰۃ واجب ہے | زکوٰۃ واجب نہیں |
|---|---|
| سونا اور چاندی، بشمول زیورات | آپ کا اپنا گھر |
| نقدی، بینک اکاؤنٹس، بچت سرٹیفکیٹ | ذاتی گاڑی اور گھریلو سامان |
| کاروباری مال اور بیچنے کے لیے خریدی گئی جائیداد | کاروبار کے آلات اور مشینری |
| آپ کا دیا ہوا قرض جس کی واپسی کی توقع ہو | کرائے پر دی گئی جائیداد بذاتِ خود (البتہ جمع شدہ کرایہ قابلِ زکوٰۃ ہے) |
مختلف مکاتبِ فکر کے احکام میں فرق ہو سکتا ہے۔ پیچیدہ معاملات، جیسے کاروباری شراکت داری یا طویل مدتی قرضوں، کے بارے میں براہِ کرم کسی مستند عالمِ دین سے پوچھیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟
نصاب دولت کی وہ کم از کم مقدار ہے جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے: 52.5 تولہ (612.36 گرام) چاندی یا 7.5 تولہ (87.48 گرام) سونا۔ پاکستان میں اکثر علماء مشورہ دیتے ہیں کہ جب آپ کی دولت نقدی، سونے اور دیگر اثاثوں کا مجموعہ ہو تو چاندی کا نصاب استعمال کریں، کیونکہ یہ کم ہے اور اس سے زیادہ غریبوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
کیا پہنے جانے والے زیورات پر زکوٰۃ واجب ہے؟
حنفی مسلک کے مطابق، جس پر پاکستان میں اکثر لوگ عمل کرتے ہیں، سونے اور چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ واجب ہے، چاہے وہ پہنے جاتے ہوں یا نہیں۔ دیگر مسالک ذاتی استعمال کے زیورات کو مستثنیٰ قرار دیتے ہیں۔ زیور کو اس میں موجود سونے یا چاندی کی مالیت پر شمار کریں، بنوائی کی اجرت شامل کیے بغیر۔
کیا میرے گھر، گاڑی یا پلاٹ پر زکوٰۃ ہے؟
جس گھر میں آپ رہتے ہیں، آپ کی ذاتی گاڑی اور گھریلو سامان پر زکوٰۃ نہیں۔ جو پلاٹ یا جائیداد دوبارہ بیچنے کے لیے خریدی گئی ہو وہ کاروباری مال ہے، اس لیے اس کی موجودہ بازاری قیمت پر زکوٰۃ ہے۔
زکوٰۃ کب ادا کرنی چاہیے؟
جب نصاب سے زائد دولت پر پورا اسلامی (قمری) سال گزر جائے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ یکم رمضان کو حساب لگاتے ہیں، لیکن آپ ہر سال کوئی بھی مقررہ تاریخ اختیار کر سکتے ہیں۔
یکم رمضان کو بینک جو زکوٰۃ کاٹتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟
اگر آپ نے زکوٰۃ سے استثنا کا حلف نامہ (CZ-50) جمع نہیں کرایا تو بینک یکم رمضان کو بچت کھاتوں سے زکوٰۃ کاٹ لیتے ہیں۔ اگر بینک پہلے ہی زکوٰۃ کاٹ چکا ہو تو ان بچتوں پر واجب زکوٰۃ میں سے وہ رقم منہا کر لیں۔
متعلقہ کیلکولیٹر
- وراثت کیلکولیٹرترکہ کو شریکِ حیات، اولاد، والدین اور بہن بھائیوں میں اسلامی قانون (حنفی) کے مطابق تقسیم کریں، حصوں اور رقم کے ساتھ۔
- تنخواہ ٹیکس کیلکولیٹربجٹ 2026-27 کے تحت اپنا ماہانہ انکم ٹیکس اور ہاتھ میں آنے والی تنخواہ معلوم کریں، اور دیکھیں کہ 2025-26 کے مقابلے میں کتنی بچت ہوئی۔
- کمیٹی (بی سی) کیلکولیٹرکمیٹی کی منصوبہ بندی کریں: کل رقم، ماہ بہ ماہ شیڈول، اور آپ کی باری کا آپ کے لیے کیا مطلب ہے، کسی بھی تعداد کے ممبران کے لیے۔
- کار لون کیلکولیٹرقیمت، ڈاؤن پیمنٹ، شرح اور مدت سے گاڑی کے قرض کی ماہانہ قسط، کل مارک اپ اور مکمل لاگت معلوم کریں۔
ذرائع
- زکوٰۃ کا نصاب: 52.5 تولہ چاندی یا 7.5 تولہ سونا (حنفی فقہ کے روایتی پیمانے)
- زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 (یکم رمضان کو بینک کی کٹوتی)
یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔