ہوم ‹ زکوٰۃ اور وراثت

اسلامی وراثت کیلکولیٹر

اسلامی قانونِ وراثت (حنفی) کے مطابق ترکہ شوہر یا بیوی، اولاد، والدین اور بہن بھائیوں میں تقسیم کریں۔ اپ ڈیٹ: 12 اکتوبر، 2026

روپے
جائیداد، نقدی، سونا، یعنی وفات کے وقت ملکیت میں موجود ہر چیز۔
روپے
روپے
زیادہ سے زیادہ ایک تہائی (⁦1/3⁩)۔
میت
اگر میت مرد ہو۔

اس میں شوہر یا بیوی، اولاد، والدین اور سگے بہن بھائی شامل ہیں۔ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں، دادا دادی اور نانا نانی، اور باپ شریک یا ماں شریک بہن بھائی شامل نہیں۔ اگر ان میں سے کوئی وارث ہو تو براہِ کرم کسی عالمِ دین سے رجوع کریں۔

قابلِ تقسیم ترکہ

10,000,000 روپے

قرض 0 روپے اور وصیت 0 روپے منہا کرنے کے بعد

وارثحصہرقمفی کس
بیوی⁦1/8⁩1,250,000 روپے—
والدہ⁦1/6⁩1,666,667 روپے—
بیٹے (2)⁦17/30⁩5,666,667 روپے2,833,333 روپے
بیٹی⁦17/120⁩1,416,667 روپے—

اسلامی وراثت میں مقررہ حصے (ذوی الفروض)

وارثحصہشرط
شوہر⁦1/2⁩ یا ⁦1/4⁩اگر میت نے اولاد چھوڑی ہو تو ⁦1/4⁩
بیوی (یا سب بیویاں مل کر)⁦1/4⁩ یا ⁦1/8⁩اگر میت نے اولاد چھوڑی ہو تو ⁦1/8⁩
والد⁦1/6⁩ (+ عصبہ)اگر بیٹا نہ ہو تو باقی ترکہ (عصبہ) بھی لیتا ہے
والدہ⁦1/3⁩ یا ⁦1/6⁩اگر اولاد ہو یا دو یا زیادہ بہن بھائی ہوں تو ⁦1/6⁩
ایک بیٹی (بیٹا نہ ہو)⁦1/2⁩
دو یا زیادہ بیٹیاں (بیٹا نہ ہو)⁦2/3⁩آپس میں برابر
بیٹے اور بیٹیاں اکٹھےعصبہ (باقی ترکہ)ہر بیٹے کو بیٹی سے دگنا حصہ ملتا ہے
سگے بھائی اور بہنیںعصبہ، ⁦1/2⁩ یا ⁦2/3⁩بیٹے یا والد کی موجودگی میں محروم

کیلکولیٹر میں لاگو خاص قواعد

حل شدہ مثال

ایک شخص 1 کروڑ روپے، ایک بیوی، اپنی والدہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑ کر فوت ہوتا ہے۔ بیوی کو ⁦1/8⁩ (12.5 لاکھ روپے) اور والدہ کو ⁦1/6⁩ (تقریباً 16.67 لاکھ روپے) ملتا ہے۔ باقی ⁦17/24⁩ کو ⁦2:2:1⁩ کے تناسب سے تقسیم کیا جاتا ہے، چنانچہ ہر بیٹے کو ⁦34/120⁩ (تقریباً 28.33 لاکھ روپے) اور بیٹی کو ⁦17/120⁩ (تقریباً 14.17 لاکھ روپے) ملتا ہے۔

وراثت کے معاملات میں ایسے حقائق ہو سکتے ہیں جو نتیجہ بدل دیں، جیسے زندگی میں دیے گئے تحائف، لاپتہ افراد یا تنازعات۔ جائیداد منتقل کرنے سے پہلے کسی مستند عالمِ دین یا وکیل سے حصوں کی تصدیق کروا لیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

وراثت میں بیوی کا حصہ کتنا ہے؟

اگر مرحوم شوہر نے اولاد چھوڑی ہو تو بیوی کو ترکے کا ⁦1/8⁩ ملتا ہے، اور اگر اولاد نہ چھوڑی ہو تو ⁦1/4⁩۔ اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو یہ حصہ ان میں برابر تقسیم ہوتا ہے۔

شوہر کا حصہ کتنا ہے؟

اگر مرحومہ بیوی نے اولاد چھوڑی ہو تو شوہر کو ⁦1/4⁩ ملتا ہے، اور اگر اولاد نہ چھوڑی ہو تو ⁦1/2⁩۔

بیٹے کو بیٹی سے دگنا حصہ کیوں ملتا ہے؟

قرآنِ مجید (سورۃ النساء ⁦4:11⁩) میں بیٹے اور بیٹی کے اکٹھے وارث ہونے کی صورت میں بیٹے کا حصہ بیٹی سے دگنا مقرر کیا گیا ہے۔ علماء اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ بیٹے پر خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ہے، جس میں اس کی بیوی، بچے اور والدین شامل ہیں، جبکہ بیٹی کا حصہ مکمل طور پر اس کا اپنا ہوتا ہے۔

اگر بیٹا موجود ہو تو کیا بہن بھائی وارث ہوتے ہیں؟

نہیں۔ بیٹا، یا والد، سگے بھائیوں اور بہنوں کو مکمل طور پر محروم کر دیتا ہے۔

ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے کیا ادا کیا جاتا ہے؟

پہلے تجہیز و تکفین کے اخراجات اور قرض ادا کیے جاتے ہیں۔ پھر اگر کوئی وصیت ہو تو اسے پورا کیا جاتا ہے، باقی ماندہ ترکے کے زیادہ سے زیادہ ایک تہائی تک، اور وہ کسی وارث کے حق میں نہیں ہو سکتی۔ باقی ترکہ ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے۔

کیا پاکستان میں بیٹیوں کی وراثت قانوناً نافذ ہے؟

جی ہاں۔ پاکستانی قانون کے تحت مسلمانوں کی وراثت ان کے شخصی قانون (پرسنل لا) کے مطابق ہوتی ہے، اور خواتین کو ان کے حصے سے محروم کرنا خواتین مخالف رسوم کی روک تھام کے قانون کے تحت فوجداری جرم ہے۔ صوبوں میں وراثت کے تحفظ کے قوانین بھی موجود ہیں۔

متعلقہ کیلکولیٹر

ذرائع

یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے اندازہ دیتا ہے، سرکاری مشورہ نہیں۔ شرحیں اور قواعد بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اہم فیصلوں سے پہلے متعلقہ ادارے یا کسی ماہر سے تصدیق کریں۔ دیکھیں ہم حساب کیسے کرتے ہیں، یا غلطی کی اطلاع دیں۔